آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) اگلے 5 سالوں میں اتنے کروڑ پتی (millionaires) پیدا کرے گی جتنے انٹرنیٹ نے 20 سالوں میں کیے تھے۔
یہ گفتگو جولائی 2025 میں مشہور امریکی پوڈ کاسٹ "All-In Podcast” میں ہوئی تھی، جس کی میزبانی معروف وینچر کیپیٹلسٹ چمتھ پالیہاپتیا (Chamath Palihapitiya) کر رہے تھے۔
جینسن ہوانگ نے محض یہ دعویٰ نہیں کیا بلکہ اس کے پیچھے کام کرنے والے محرکات کو بھی تفصیل سے بیان کیا۔ اس گفتگو کی مکمل اور اہم تفصیلات درج ذیل ہیں:
1. AI دورِ حاضر کا سب سے بڑا "Equalizer”
ہوانگ کا ماننا ہے کہ AI نے تکنیکی مہارت کی خلیج کو ختم کر کے سب کو ایک برابر لا کھڑا کیا ہے۔ ماضی میں کسی ڈیجیٹل آئیڈیا کو عملی جامہ پہنانے کے لیے C++ یا Python جیسی پروگرامنگ زبانیں سیکھنا لازمی تھا، لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ ان کے مطابق، اب ہر شخص پروگرامر ہے کیونکہ اب آپ کو صرف اپنی عام زبان میں AI کو ہدایات دینی ہوتی ہیں۔
2. خیالات اور تکمیل کے درمیان رکاوٹ کا خاتمہ
انہوں نے واضح کیا کہ ایک آئیڈیا سوچنے اور اسے حقیقت کا روپ دینے کے درمیان جو ایک مشکل مرحلہ ہوا کرتا تھا، AI نے اسے گرا دیا ہے۔
- ان کا کہنا تھا کہ اس ٹیکنالوجی کی بدولت تکنیکی مہارت رکھنے والے لوگ زیادہ تخلیقی (Creative) ہو رہے ہیں، اور تخلیقی لوگ زیادہ تکنیکی بن رہے ہیں۔
- ان کے الفاظ تھے: "اب ہر کوئی ایک آرٹسٹ ہے، ہر کوئی ایک مصنف ہے۔”
3. روزگار کا مستقبل اور انتباہ
کیا AI انسانوں کی نوکریاں چھین لے گا؟ اس سوال پر ہوانگ کا نقطہ نظر انتہائی حقیقت پسندانہ تھا:
- ان کے مطابق، AI نئی نوکریاں پیدا کر رہا ہے اور عام لوگوں کو اس قابل بنا رہا ہے کہ وہ ایسی چیزیں تخلیق کریں جنہیں دوسرے لوگ خریدنا چاہیں۔
- البتہ، انہوں نے ایک سخت انتباہ بھی جاری کیا: "جو شخص AI کا استعمال نہیں کر رہا، وہ اپنی نوکری لازمی طور پر اس شخص کے ہاتھوں کھو دے گا جو AI کا استعمال جانتا ہے۔”
4. مستقبل کا "دو فیکٹریوں والا ماڈل” (Two-Factory Model)
ہوانگ نے پیش گوئی کی کہ مستقبل کی ہر چھوٹی بڑی کمپنی (صرف ٹیک کمپنیاں نہیں، بلکہ ہر انڈسٹری) دو متوازی فیکٹریوں کے ماڈل پر کام کرے گی:
- فزیکل فیکٹری: جہاں ان کی اصل پروڈکٹ بنے گی (مثلاً ٹیسلا کی گاڑیاں)۔
- ڈیجیٹل (AI) فیکٹری: جہاں اس پروڈکٹ کو چلانے اور بہتر بنانے والی آرٹیفیشل انٹیلیجنس تیار کی جائے گی۔
5. چھوٹی ٹیموں کی غیر معمولی طاقت (High Leverage)
انہوں نے OpenAI اور DeepSeek کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ AI کی وجہ سے چھوٹی ٹیمیں کتنی بڑی مالیت پیدا کر رہی ہیں۔ انہوں نے مثال دی کہ صرف 150 ماہرین پر مشتمل ایک ٹیم 20 سے 30 ارب ڈالر (Billion) کی ویلیو بنا سکتی ہے، جو کہ فی کس تقریباً 200 ملین ڈالر بنتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انسانی تاریخ کی کسی صنعت میں افراد کی اتنی زیادہ افادیت (Leverage) پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔
مختصر یہ کہ: جینسن ہوانگ کے مطابق انٹرنیٹ نے دنیا کو بدلنے اور ارب پتی پیدا کرنے میں وقت لیا تھا، لیکن AI پروڈکٹیوٹی (Productivity) کا ایک ایسا دھماکہ ہے جو اس پورے عمل کو انتہائی تیز کر دے گا۔ جو لوگ آج ان ٹولز کو سیکھ کر ان پر کام شروع کر دیں گے، ان کے لیے دولت اور کامیابی کے مواقع بے تحاشہ ہوں گے۔
